26 جولائی 2026 - 20:41
دوسری قسط | نیویارک ٹائمز نے جاری رکھنے سے ٹرمپ کی پسپائی کی اصل وجہ بتا دی

نیویارک ٹائمز نے امریکی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف حملوں کو بڑھانے کے اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور یہ فیصلہ سفارت کاری کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایئرڈیفنس کے میزائلوں کے ذخائر کی قلت جیسے اہم عوامل کی بنا پر کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ نیویارک ٹائمز نے باخبر امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ اس وقت ایران پر حملے بڑھانے کے اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور یہ فیصلہ کئی اہم وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے، جن میں امریکی فوج کے دفاعی ذخائر کی شدید کمی، بھی شامل ہے۔

دوسری اور آخری قسط:

ٹرمپ کے مشیروں کا مشورہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں کسی بھی شخص نے جنگ میں شدت لانے کے فیصلے کو مناسب نہیں سمجھا؛ اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سمیت بیشتر مشیروں کا موقف ہے کہ:

• مذاکرات جاری رکھے جائیں؛ اور

• معاشی دباؤ برقرار رکھا جائے۔

ان دونوں آپشنز کی لاگت فوجی کارروائی سے کم اور ان کا خطرہ بھی کم ہے۔

پینٹاگون کے منصوبے

نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا کہ پینٹاگون نے حالیہ دنوں میں مزید فوجیوں، سازوسامان اور گولہ بارود کی کھیپوں کو مغربی ایشیا بھیجا ہے؛ اس نے ایران کے خلاف کثیر المراحل منصوبہ تیار کیا تھا، جس میں شامل تھے:

• ساحلی ریڈارز کو نشانہ بنانا

• بحری جہاز شکن میزائل لانچرز کو نشانہ بنانا

• تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنانا

• توانائی کی تنصیبات اور جوہری مراکز (بشمول "کوہ کَلنگ" کمپلیکس) پر حملے کرنا

تاہم، جنرل کین کی وارننگ کے بعد ٹرمپ نے اس منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا!

مجموعی صورتحال

رپورٹ کے مطابق، 13 راتوں کے مسلسل حملوں کے بعد امریکی افواج نے سینیچر کو ایران کے خلاف کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔ اس کے ساتھ ہی، یمن میں کشیدگی بڑھ گئی جہاں سعودی حمایت یافتہ افواج اور انصاراللہ کے درمیان جھڑپیں تیز ہو گئی ہیں۔ سعودیہ نے یمن پر حملہ کیا جس کے جواب میں انصار اللہ نے کئی ہوائی اڈوں اور آرامکو کمپنی کی متعدد تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا۔

نیویارک ٹائمز نے یہ بھی لکھا کہ اگرچہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران پر "پہلے سے کہیں بڑا حملہ" کر سکتا ہے، لیکن ایئر-میزائل ڈیفنس ذخائر کی کمی نے اس کو باز رکھا؛ اور اب یہ واضح ہے کہ واشنگٹن کی حکمتِ عملیوں کی مجبوریاں نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں خطرناک اخراجات کے بغیر جنگ جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔

ادھر سابق امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا (Leon Panetta) نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ٹرمپ کے پاس مفاہمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کیونکہ جنگ جاری رکھ کر وہ امریکی عوام کو تباہ کن دشواریوں سے دوچار کر رہا ہے۔ پنیٹا کے بقول ٹرمپ ایک تنگ اور بند گلی میں پھنس کیا ہے اور جنگ کے ذریعے اس الجھن سے نکلنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha